Gul-Hooria Urdu Ghazal 2022 - sharepoetry.live
Gul-Hooria Gul Hooria-Kisi Ke Dil Mein Musalsal Thikhana Chahti Hun کسی کے دل میں مسلسل ٹھکاناچاہتی ہوں میں اپنے عشق کو منظر پہ لانا چاہتی ہوں ہر ایک سمت عبوری خوشی میسر ہے مگر میں دیر تلک مسکرانا چاہتی ہوں یہ لوگ کس لیے اس بات سے پریشان ہیں مگر میں خود سے تعلق بڑھانا چاہتی ہوں وہ کرتو لے گا میرے جھوٹ کا یقین لیکن میں اب کی بار اسے سچ بتانا چاہتی ہوں میرے مزاج کی بیچینیاں بتاتی ہیں کوئی تو ہے میں جسے غائبانہ چاہتی ہوں نہیں کسی کو اجازت کے مجھ پر غور کریں نظر میں خود پہ ابھی طائرانہ چاہتے ہوں بلا جواز نہیں روبرو ہوئیں اس کے میں آئینے میں نئے گل کھلانا چاہتی ہوں کسی کے دل میں مسلسل ٹھکاناچاہتی ہوں میں اپنے عشق کو منظر پہ لانا چاہتی ہوں (گُل حوریعہ) $ads={1} Also, read: Wasi Shah Sad Poetry | Ghazal In Urdu Gul-Hooria Urdu Ghazal-Main Apne Ishq ko Manzir Pay Kisi Ke Dil Mein musalsal thik khana chahti hun Main Apne Ishq ko Manzir Pay lana chahti hun. Har EK Sammit gbori Khushi Muassar ha...