Posts

Showing posts with the label Wania aur Amna ki kahanian

بڑی عید کہانی ”مشن انگوٹھی تلاش“ اردو کہانی ۔ صاٸمہ ندیم

Image
بڑی عید کہانی ”مشن انگوٹھی تلاش“ اردو کہانی ۔ صاٸمہ ندیم  بڑی عید کہانی  “ مشن انگوٹھی تلاش“  اردو کہانی ۔ صاٸمہ ندیم ۔”میں ۔۔میں۔۔۔مییہ ۔۔۔،“ بکرے کی آواز نے پورا محلہ سر پر اٹھا رکھا تھا۔ سچ میں بہت ہی غصیلہ بکرا تھا۔ پہلے تو بابا نے اسے گیراج میں باندھا لیکن اس نے گھڑکی کے اوپر جو چھلانگیں لگاٸیں کہ رابی پھو پھو کی جان ہی نکل گٸ۔ بس پھر دادا ابو کے کہنے پر بکرے کو صحن میں باندھ دیا۔  اب سارے بچے بکرے کے پیچھے صحن میں آگۓ۔ وانیہ اور آمنہ  ابو کے گھر اسلام آباد آٸ ہوٸیں تھیں اور اب سب کزن بکرے کے ساتھ مزے کر رہے تھے۔  بھی بڑی عید سب کے ساتھ منانے دادا پہلے تو بکرے نے صحن میں لگے امرود کے درخت کے نیچےکے سارے پتے کھاۓ اور پھر  چھلانگیں لگاتا میں۔۔۔میں۔۔۔۔میہ ۔۔۔ کرنے لگا۔    یہ بڑے بڑے دو سینگ، لمبی ٹانگیں ، سفید رنگ اور ماتھے پر کالے بالو ں کی پٹی کے ساتھ وہ ایک شاندار بکرا تھا۔ بچوں نے تو اس کا غصہ دیکھ کر اس کا نام ”مغل اعظم“ رکھ دیا۔  بابا بازار سے ”مغل اعظم“ کے لۓ چارا لے آۓ۔ ماما نے بکرے کو دینے کے لۓ چنے کی دال پانی میں بھگو کر رکھ...

اور جب بھڑ نے کاٹ لیا۔ وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں

Image
  اور جب بھڑ نے کاٹ لیا وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں۔ مصنفہ   : صاٸمہ ندیم گرمیوں کی ایک اور لمبی اور بورنگ شام تھی۔ اما کی ایک ہی رٹ کہ پڑھ لو۔۔۔ پڑھ لو سن سن  کر  کان پک گۓ تھے۔  ٹی وی موباٸل یا کمپیوٹر سب بورنگ لگ رہا تھا۔ اس شام گلی میں بھی کوٸ کھیلنے نہیں آیا۔ اس لۓ ضد کرکے باہر بھی نہیں جاسکتے تھے۔ ”چلو صحن میں جا کر پودوں کو پانی دو اور کچھ تازہ ہوا میں سانس لو،“امی نے حکم دیا۔ وانیہ اور آمنہ صحن میں آگٸیں۔ وانیہ نے ٹوٹی کھولی اور آمنہ پاٸپ سے پودوں کو پانی دینے لگی۔ اس نے شرارت سے پانی وانیہ پر پھینکا۔ وانیہ کو غصہ آیا اور اس نے پاٸپ لے کر آمنہ کو پورا ہی نہا دیا۔ اب وہاں پانی سے لڑاٸ ہورہی تھی ۔ آمنہ اپنے آپ کو بچانے اے سی کے باہر والے یونٹ کی طرف بھاگی او وہاں سے وانیہ پر پانی پھینکا۔ وانیہ نے بھی بدلہ لیا اور جلدی سے اپنی ساٸیکل کے پیچھے چھپ گٸ۔ ماما اندر کچن میں ان دونوں کے لۓ کچھ اسنیکس بنا رہی تھیں اور ساتھ ساتھ انھیں شرارت کرنے سے منع کر رہی تھیں۔ ابھی تو ان دونو  ں کے ہنسنے کی آوازیں آرہی تھیں کہ اچانک وانیہ کے زور سے چیخنے اور رونے کی آواز آٸ...

عید الفطر کا چاند غائب کردو - وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں

Image
 عید الفطر کا چاند غائب کردو -  بچوں کے لۓ مزیدار اردو کہانی وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں مصنفہ: صائمہ ندیم   'کسی کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ کیا ہو رہا تھا- رمضان کا آخری ہفتہ شروع ہوتے ہی کوئ شخص عید الفطر یعنی چھوٹی عید کی تیاریوں کو برباد کرنے کی کوشش کر رہا تھا- پہلے تو اچانک پورے ملک کے بینک کسی نے ہیک کر لۓ تاکہ لوگوں کو عید سے پہلے تنخواہ نہ مل پاۓ اور وہ عید کی خریداری نہ کر پایئں- حکومت نے مشکل سے اس مسئلے پر کچھ قابو پایا توعید سے ایک روز پہلے پورے ملک کے پٹرول پمپ کا نظام ہی بیٹھ گیا- عید کرنے دوسرے شہروں کو جانے والے لوگ راستے میں ہی پھنس گۓ- عید کے لۓ فراہم ہونے والا سامان بازاروں تک نہ پہنچ سکا- بازاروں میں گوشت، سبزی اور مصالحہ جات کی قلت ہوگئ- سب لوگ بہت پریشان تھے-وانیہ اور آمنہ بھی مشکل سے عید سے ایک دن پہلے اپنی دادا جان کے گھر پہنچ پائیں تھیں- وہاں بھی سب ہی اس صورتحال سے پریشان تھے- 'ہم کل راستے میں تھے تو اچانک پورے ملک کے پٹرول پمپ کا نظام بیٹھ گیا- ہم لوگوں نے افطار بھی راستے میں کیا- آمنہ نے بھی بہت زیادہ تنگ کیا- وہ بہت تھک گئ تھی- وہ تو شکر ہے ...

سکول میں ویکسین لگانے آۓ۔ وانیہ اورآمنہ کی کہانیاں

  سکول میں ویکسین لگانے آۓ ۔ وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں ،'نہیں ، نہیں٠٠٠٠ مس مجھے جانے دیں۔ نہیں۔۔۔۔' 'میری ماما نے بھی منع کیا تھا لیکن آپ میری بات ہی نہیں سن رہیں۔' آپ کی ماما نے اجازت نامے پر دستخط کر دیۓ تھے اور اس کی تصویر واٹس' ایپ کردی تھی۔ چلیں اب آگے ہوں باقی بچوں کو بھی قطار میں آنا ہے۔ آپ رو رو کر سب کو پریشان کر رے ہیں،'۔ اذلان کچھ دیر کے لۓ خاموش ہوگیا اور اپنی ہمت بندھانے لگا۔ لیکن جیسے ہی قطار میں سے دو بچے کم ہوۓ اور پیچھے والے بچے آگے کھسکے تو پھر ڈر کر کانپنے اور چیخنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں اس کی باری بھی آنے والی تھی۔ اذلان کچھ خیال کریں۔ کتنا لمبا قد ہے اور اچھے خاصے صحت مند بھی ہیں' ساتویں جماعت میں آکربچوں کی طرح رو رہے ہیں۔  وہ دیکھیں چھوٹے بچے بھی ہنس رہے ہیں'۔ مس زینب نے اسے ڈانٹا۔ 'کچھ نہیں ہوگا۔ آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔' وہاں اذلان ہی نہیں بہت سے اور بچے بھی پریشان کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ جو بچہ فارغ ہو جاتا وہ اپنا بازو پکڑے آہستہ آہستہ جماعت کی طرف جاتا۔ 'بالکل بھی درد نہیں ہوا' 'بس تھوڑا سا ...